7 ستمبر 2014 - 11:09
مولانا علی اکبر کمیلی کی شہادت/ اعلی حکام کے مذمتی پیغامات+ تصاویر

علی اکبر کمیلی اپنی گاڑی میں عزیز آباد کے علاقے بھنگوریہ گوٹھ سے گذر رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سواردھشتگردوں نے نشانہ لیکر ان پر گولیاں برسا دیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امام رضا علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر ایک اور شیعہ گھرانہ مغموم ہو گیا۔ پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے عزیز آباد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ممتاز عالم دین اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ عباس کمیلی کے بیٹے مولانا علی اکبر کمیلی شہید ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق علی اکبر کمیلی اپنی گاڑی میں عزیز آباد کے علاقے بھنگوریہ گوٹھ سے گذر رہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار افراد نے نشانہ لیکر گولیاں برسا دیں اور فرار ہوگئے۔ شدید زخمی علی اکبر کمیلی اور انکی فیکٹری کے ورکر محمد جمن خان کو فوری طور پر ضیاء الدین ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔ علی اکبر کو 3 گولیاں لگیں۔ پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیا تاہم حملہ آوروں کا سراغ نہیں ملا۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق جنداللہ نامی تنظیم نے علی اکبر کمیلی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

علامہ راجہ ناصر عباس کا مذمتی پیغام

۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ علامہ عباس کمیلی کے فرزند علامہ علی اکبر کمیلی کی شہادت نے سندھ حکومت کے قیام امن کے دعوں کی قلعی کھول دی، سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر قائد میں دہشت گردی کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں، مدارس کے نام پر قائم دہشتگردی کے مراکز شہریوں کے لئے ناسور بن چکے ہیں، کراچی کا ضلع وسطی مذہبی و سیاسی طالبان کا مضبوط گڑھ بن چکا ہے، علامہ علی اکبر کمیلی پر حملہ بھی ضلع وسطی میں ہی ہوا، حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے، کراچی میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فوری فوجی آپریشن ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے علامہ عباس کمیلی کے فرزند علامہ علی اکبر کمیلی کی شہادت کے خلاف مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے مذمتی بیان میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی بھرپور مذمت کرتی ہے، شہر قائد میں جاری دہشت گرد کارروائیاں عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی مزموم سازش ہے، شہر میں روزانہ کی بنیاد پر درجن بھر شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں قیام امن کے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں، سندھ حکومت مکمل طور پر اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے ٹارگٹڈ آپریشن کے خاتمے کا اعلان کرے اور کراچی کو فوج کے حوالے کیا جائے، ایک منظم پلاننگ کے تحت شہر قائد میں اہل تشیع تاجروں اور کاروباری شخصیات کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، علامہ علی اکبر کمیلی کا قتل بھی اسی منظم سازش کا حصہ ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کا مذمتی پیغام

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تکفیری دہشتگردوں کے ہاتھوں جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ معروف عالم دین علامہ محمد عباس کمیلی کے صاحبزادے علامہ علی اکبر کمیلی کی شہادت پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اتحاد سے دہشت گردی پھیلانے والوں کو ناکام بنا دے جبکہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے علامہ علی اکبر کمیلی کی شہادت کا نوٹس لیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایت جاری کر دی ہیں، جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو نے ڈی آئی جی ویسٹ کی سربراہی میں ایس ایس پی، ایس پی، ایس آئی یو اور سی آئی ڈی افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو 24 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

الطاف حسین کا مذمتی بیان

ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے علامہ عباس کمیلی کو فون کر کے ان سے انکے بیٹے کے بہیمانہ قتل پر اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے کہا علی اکبر کمیلی کا قتل بہت بڑا سانحہ ہے۔ کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد کراچی میں علماء انجینئروں‘ ڈاکٹروں‘ پروفیسر اور شہریوں کو چُن چُن کر قتل کر رہے ہیں۔ آخر کب تک عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جاتا رہیگا۔ 

عمران خان کا مذمتی بیان

عمران خان نے علامہ عباس کمیلی کے بیٹے کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں علی اکبر کمیلی کی شہادت کی مذمت کرتا ہوں، ان کو صرف اس لئے مار دیا گیا کہ وہ شیعہ تھے، یہ ایک سازش ہے جس کے تحت پاکستانیوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر ہم سب ایک ہیں، ہم سب پاکستانی ہیں، نئے پاکستان میں نفرتوں کے بیج بونے والوں کا کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق‘ سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، علامہ طاہر القادری اور گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی علی اکبر کمیلی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲